پاکستان کے کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے پاس زوردار دھماکہ، تقریباً 23 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

پاکستان کے کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے پاس زوردار دھماکہ، تقریباً 23 افراد جاں بحق، متعدد زخمی


کوئٹہ پولیس کے مطابق چمن پھاٹک کے پاس ہونے والا یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جعفر ایکسپریس کی ایک پوری بوگی آگ کے شعلوں کی زد میں آ کر مکمل طور پر راکھ ہو گئی۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

i

user

google_preferred_badge

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ کے ایک خودکش حملہ آور نے اتوار کی صبح پاکستان کے کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے پاس کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کو نشانہ بنا کر ایک ہولناک فدائین حملہ کیا۔ ریلوے ٹریک کے نزدیک ہونے والے اس زوردار دھماکے میں کم از کم 23 افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی اور 50 سے زائد افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق زوردار دھماکے کے باعث مسافر ٹرین کی ایک بوگی پوری طرح جل کر خاک ہو گئی، جبکہ ٹریک کے آس پاس واقع کئی گھروں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ اور پولیس افسران فوراً جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے اور امدادی و ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔ سیکورٹی فورسز نے پورے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور زخمیوں کو فوراً قریبی اسپتال پہنچایا گیا ہے، جہاں کئی کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے اس فدائین حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان جینند بلوچ کے مطابق تنظیم کی خودکش حملہ آور یونٹ ’مجید بریگیڈ‘ نے اس حملے کو انجام دیا ہے۔ یہ ٹرین کوئٹہ کینٹ سے پاکستانی فوج کے جوانوں کو لے کر جا رہی تھی، جسے نشانہ بنا کر یہ دھماکہ کیا گیا۔ اس آپریشن سے متعلق تفصیلی معلومات، اور ساتھ ہی حملے کے نتیجے میں دشمن کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں جلد ہی میڈیا کو ایک آفیشیل بیان میں معلومات فراہم کی جائے گی۔

کوئٹہ پولیس کے مطابق چمن پھاٹک کے پاس ہونے والا یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جعفر ایکسپریس کی ایک پوری بوگی آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ کر مکمل طور پر راکھ ہو گئی۔ ریلوے ٹریک کے آس پاس بنے کئی رہائشی مکانات کی دیواریں گر گئیں اور وہاں کھڑی گاڑیاں بھی اس دھماکے کی زد میں آ کر پوری طرح تباہ ہو گئیں۔

دھماکے کے فوراً بعد پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ پولیس کے اعلیٰ افسران اور مقامی رہائشی فوراً موقع پر پہنچ گئے اور ملبے اور جلتی ہوئی بوگی سے متاثرین کو باہر نکال رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس حادثے میں زخمی ہونے والے 53 افراد کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے کئی کی حالت انتہائی نازک ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک منظم حملہ تھا جسے ٹرین کے گزرنے کے وقت انجام دیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچایا جا سکے۔ ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس فورس موقع پر امدادی کارروائیاں چلانے کے ساتھ ساتھ دھماکے کی صحیح وجوہات اور خودکش حملہ آور کے سراغ تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Leave a Reply