اسی لیے اس جنگ میں ایران کے برقرار رہنے کی بازگشت مغربی ایشیا سے باہر بھی سنائی دے رہی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے بیشتر حصوں میں اس جنگ کو جوہری عدم پھیلاؤ یا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے زاویے سے نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ اسے ایک ایسے معاملے کے طور پر دیکھا جائے گا جس میں ایک سپر پاور فوجی طاقت کے زور پر ایک خودمختار ملک کا مستقبل طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بلاشبہ ایران جمہوری ملک نہیں، لیکن ایک سپر پاور کے سامنے اس کے ڈٹ جانے کو سراہا جا سکتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ویتنام کی طرح ایران بھی ایک ایسی مثال بن گیا ہے، جس میں کمزور ممالک خود سے کہیں زیادہ طاقتور قوت کے مقابل کھڑے ہونے کا امکان دیکھتے ہیں۔
سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ جنگ ایران کو جوہری صلاحیت کے مزید قریب بھی لے جا سکتی ہے۔ اگر ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مستقبل کے حملوں کو روکنے کا واحد راستہ جوہری دفاعی صلاحیت ہے، تو اس جنگ کا نتیجہ اس کے اعلان کردہ مقصد کے بالکل برعکس نکل سکتا ہے۔ امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ فوجی برتری کو تزویراتی کامیابی سمجھنے کی غلطی بار بار دہراتا ہے۔ وہ لڑائیاں جیت سکتا ہے، لیکن جنگ ہار سکتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو سزا دے سکتا ہے، لیکن انہیں سیاسی طور پر مزید مضبوط بھی بنا سکتا ہے۔ وہ فتح کا اعلان کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے کمزور پوزیشن سے مذاکرات کی میز پر آنا پڑ سکتا ہے۔
طاقت کے بے رحم حساب کتاب میں، اس جنگ سے ایران زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے، جبکہ امریکہ اتنا مضبوط ثابت نہیں ہوا جتنا ٹرمپ شاید سمجھتے ہوں۔ اس جنگ کا آغاز اس خیال کے ساتھ ہوا تھا کہ ایران ٹوٹ جائے گا، لیکن ممکن ہے اس کا اختتام اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر ہو کہ ایران سے بات چیت کرنا ہی ناگزیر ہے۔
(مضمون نگار اشوک سوین، سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات پر تحقیق کے پروفیسر ہیں)
