
واشنگٹن:
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے اور اب اس کے پاس نہ مؤثر بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی جدید ریڈار سسٹم۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس حوالے سے بہت اچھا کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سمندر میں 159 ایرانی جہاز ڈبو دیے گئے ہیں تاہم اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے حامی نہیں اور انہیں جنگیں پسند نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا جبکہ امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق تنازع ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا ممکنہ دورہ چین انتہائی اہم ہوگا۔
ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بیکار فیصلہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد ٹیرف کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، تاہم محصول بدستور وصول کیا جا رہا ہے۔



