تربت کی لڑکی کو اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا: وزیراعلیٰ بلوچستان

تربت کی لڑکی کو اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا: وزیراعلیٰ بلوچستان


وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کہا ہے کہ تربت سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر لڑکی کو کالعدم تنظیموں نے اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا تھا تاہم سکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے منصوبہ ناکام بنا دیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران ایک خاتون کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے انٹیلیجنس اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ خفیہ ایجنسیوں نے بروقت کارروائی کر کے ایک بڑی تباہی کو روک لیا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’اس کارروائی کے ذریعے نہ صرف بڑے جانی نقصان سے بچایا گیا بلکہ پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی۔‘

انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اس لڑکی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کیں۔ ان کے مطابق لڑکی لاپتہ نہیں تھی بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم کے کیمپ میں تربیت حاصل کر رہی تھی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ’لڑکی کو اس کے ایک کزن نے ورغلایا جبکہ دہشت گردوں نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے انکار کیا تو اس کے والد کو قتل کر دیا جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’لڑکی تربت سے اسلام آباد جا رہی تھی جہاں اس سے خودکش حملہ کروانے کا منصوبہ تھا، تاہم اسے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ہدف کیا ہو گا۔‘ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے تعریف کے مستحق ہیں جنہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد میں ممکنہ تباہی کا منصوبہ ناکام بنایا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں عرصے سے خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ بلوچ روایات کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تاریخی طور پر بلوچ سماج میں خواتین کبھی جنگ کا حصہ نہیں رہیں بلکہ وہ ہمیشہ امن کی علامت رہی ہیں۔ خواتین جنگیں ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرتی تھیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس لڑکی کا والد ایک ٹرک ڈرائیور ہے اور حکومت آج اسے باعزت طریقے سے اس کے والد کے حوالے کر رہی ہے جبکہ لڑکی اور اس کے خاندان کی سکیورٹی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کم عمر لڑکی کا ’بری طرح استحصال‘ کیا گیا اور ’دہشت گرد تنظیموں کا یہ طرز عمل باعث شرمندگی ہے۔‘

سرفراز بگٹی نے کالعدم تنظیم کے رہنما بشیر زیب کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کی تنظیم کو اس اقدام پر شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ غربت دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتی کیونکہ غریب لوگ محنت کر کے باعزت روزگار کماتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ کوئٹہ اور تربت میں دو مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں دہشت گردی سے متاثر یا گرفتار افراد کی ذہنی بحالی اور رہنمائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ مرکز میں اس وقت 40 افراد موجود ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ان افراد کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کی اپنے خاندانوں سے باقاعدہ ملاقاتیں بھی کروائی جاتی ہیں۔





Leave a Reply