گوادر میں اگلے 10برسوں میں 280ارب روپے کے میگا منصوبے شروع ہوں گے،جی ڈی اے – Daily Qudrat

گوادر میں اگلے 10برسوں میں 280ارب روپے کے میگا منصوبے شروع ہوں گے،جی ڈی اے – Daily Qudrat


گوادر(قدرت روزنامہ)ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی سربراہی میں گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت آئندہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوادر کے آئندہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوادر کو عالمی معیار کی جدید، اسمارٹ، ماحول دوست اور معاشی حب بندرگاہی شہر بنانے کے لیے گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے دوسرے یعنی درمیانی مرحلے (2025 تا 2035) کے تحت تقریبا 280 ارب روپے کے میگا ترقیاتی منصوبے مرحلہ وار شروع کیے جائیں گے۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹان پلاننگ شاہد علی نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹان بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شیخ آصف غنی، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹان پلاننگ عبدالرزاق سمیت سینئر انجینئرز اور افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹان پلاننگ عبدالرزاق نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں جی ڈی اے ایک جامع 10 سالہ ترقیاتی پروگرام امبریلا پی سی ون کے تحت مرتب کر رہی ہے، جسے منظوری اور فنڈز کے حصول کے لیے پہلے صوبائی حکومت اور بعد ازاں وفاقی حکومت کو پیش کیا جائے گا جو آئندہ مالی سال 27-2026 میں شامل ہونے کا امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام جی ڈی اے کے پہلے سے جاری بزنس پلان سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ایک مربوط مجموعہ ہوگا اور اس کا بنیادی مقصد گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان پر مکمل اور مثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ماسٹر پلان اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے تحت گوادر میں جدید شہری انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی، سماجی و معاشی بہتری، ماحولیاتی تحفظ، سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اور جدید میونسپل سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔آئندہ دس سالہ مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ، اسپیشل اکنامک زونز، جی ڈی اے ہاسنگ اسکیم، ایکولوجیکل کوریڈورز اور ماسٹر پلان کی مائیکرو پلاننگ پر عملدرآمد کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کمرشل سینٹرز، پبلک اسپیسز، میوزیم، ہیریٹیج سینٹر، کوسٹل ٹورازم ریزورٹس، فارنرز ٹورازم ریزورٹس، گراب بیچ پارک اور جی ڈی اے کلب جیسے اہم منصوبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔اجلاس میں سنیٹر محمد اسحاق کرکٹ گرانڈ کی اپ گریڈیشن، شہر میں انڈر گرانڈ بجلی کی کیبلنگ، جی ڈی اے شاہراہوں پر سولرائزیشن کے تحت جدید اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، گرین بیلٹس کے قیام اور شہر کی خوبصورتی میں اضافے سے متعلق منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔اولڈ ٹان بحالی منصوبے کے تحت شمبے اسماعیل وارڈ، سربندر اور پشکان میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، سیوریج و ڈرینیج نظام کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس، یادگاری مونومنٹس اور جدید میونسپل سروسز کی فراہمی کے منصوبے بھی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ ماسٹر پلان ایریاز میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے تقریبا 200 کلومیٹر نئی پائپ لائن بچھانے اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبوں کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ دس سالہ پروگرام کے تحت شہر کی اندرونی و بیرونی شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، جی ڈی اے کی نامکمل سڑکوں کی تکمیل اور ماسٹر پلان کے مطابق نئی شاہراہوں کی تعمیر بھی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ماحولیاتی تحفظ، سماجی و اقتصادی ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔اجلاس میں معین الرحمن خان نے کہا کہ گوادر پاکستان کا مستقبل کا معاشی، تجارتی اور بحری مرکز بننے جا رہا ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں کو جدید تقاضوں، ماحول دوست پالیسیوں اور عالمی معیار کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ مقامی آبادی کو بنیادی اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کی اسٹریٹیجک اہمیت، سی پیک، بندرگاہی سرگرمیوں، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے تناظر میں یہ ترقیاتی پروگرام شہر کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں گوادر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط معاشی انجن ثابت ہوگا۔



Leave a Reply