آبنائے ہرمز بندش: پاکستان نے دو ایل این جی کارگو کے لیے سپاٹ بولیاں طلب کر لیں

آبنائے ہرمز بندش: پاکستان نے دو ایل این جی کارگو کے لیے سپاٹ بولیاں طلب کر لیں


پاکستان کی حکومت نے ہفتے کو بین الاقوامی سپلائرز سے دو سپاٹ (عالمی منڈی سے موجودہ قیمت پر) ایل این جی کارگو کی بولیاں طلب کی ہیں تاکہ ملک کی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

یہ بولیاں اس وقت طلب کی گئی ہیں جب قطر سے معاہدہ کی گئی سپلائی کو آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں جاری رکاوٹوں کے باعث غیر یقینی کا سامنا ہے۔

امریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی امن معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے علاقائی کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے اور اس سے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو توقع ہے کہ قطر سے ایل این جی سپلائی بہتر طور پر بحال ہو سکے گی۔

تاہم حکام کے مطابق ممکنہ کمی پوری کرنے کے لیے فوری سپاٹ خریداری ضروری ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب توانائی کی طلب زیادہ ہو جاتی ہے۔

خطے میں توانائی کی فراہمی میں خلل ایران میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہوا، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں کئی ہفتوں کی لڑائی ہوئی اور ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور ایل این جی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا جبکہ گذشتہ ماہ جنگ بندی کا بھی اعلان کیا۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ٹینڈر کے مطابق: ’بین الاقوامی معتبر سپلائرز سے دو ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی جاتی ہیں جو ڈیلیورڈ ایکس شپ بنیاد پر کراچی کے پورٹ قاسم پر اتاری جائے گی۔‘

ہر کارگو 140,000 کیوبک میٹر پر مشتمل ہوگا، جو تقریباً 100 ملین معیاری کیوبک فٹ یومیہ کے برابر ہے۔ ترسیل کی تاریخیں 12–16 مئی اور 24–28 مئی رکھی گئی ہیں۔ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 11 مئی ہے۔

یہ اس ہفتے پی ایل ایل کی دوسری ٹینڈرنگ ہے۔ اس سے قبل چھ مئی کو بھی دو کارگو کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تھا مگر پیشکشیں مسترد کر دی گئیں کیونکہ توقع تھی کہ علاقائی کشیدگی کم ہونے سے سپاٹ قیمتیں گر جائیں گی اور قطر سے روکی ہوئی سپلائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

مسترد شدہ بولیوں میں بی پی سنگاپور کی قیمت 17.28 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ، ٹوٹل انرجیز کی 16.98 ڈالر، وٹول بحرین کی 17.84 ڈالر، او کیو ٹریڈنگ کی 18.58 ڈالر، سوکار ٹریڈنگ کی 17.21 ڈالر، اور پیٹروچائنا سنگاپور کی 17.69 اور 17.49 ڈالر شامل تھیں۔

تاہم قطر کی سپلائی میں غیر یقینی صورت حال کے باعث حکام دوبارہ سپاٹ مارکیٹ کی طرف گئے ہیں۔

توانائی وزارت کے حکام کے مطابق چھ مئی کی بولیاں اس امید پر مسترد کی گئیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت سے قطر کی ایل این جی سپلائی بحال ہو سکتی ہے۔

ایک اہلکار نے کہا: ’یہ انتظار کرو اور دیکھو کی صورت حال ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کم از کم دو قطری کارگو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اس تنگ آبی گزر گاہ میں نقل و حرکت محدود ہے، جبکہ گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے گیس کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارچ میں پاکستان کی بجلی پیداوار چھ فیصد بڑھ کر 8,939 گیگا واٹ گھنٹہ ہو گئی۔ بجلی کا بڑا حصہ ہائیڈل، کوئلہ، جوہری اور گیس سے پیدا کیا گیا، جس میں چھ فیصد حصہ درآمدی ایل این جی کا تھا۔

توانائی کے وزیر نے کہا ہے کہ 3,400 میگاواٹ بجلی کی کمی سے پانچ ایل این جی پاور پلانٹس بند ہو گئے ہیں۔

پاکستان نے مارچ میں صرف 70.2 ملین ڈالر کی ایل این جی درآمد کی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 69 فیصد کم ہے۔

حکام کے مطابق آئندہ مہینوں میں ایل این جی کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور ملک کو ماہانہ 4 سے 5 کارگو درکار ہوں گے جبکہ صنعت کے لیے مزید دو کارگو بھی ضرورت پڑتی ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے چیئرمین نے کہا کہ سپاٹ مارکیٹ یا قطر سے سپلائی کا انحصار جنگی صورت حال پر ہوگا۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر سپلائی لائنز متاثر رہیں تو پاکستان کو سپاٹ مارکیٹ پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا اور کچھ گیس مقامی ذرائع سے بھی پوری کی جائے گی جبکہ باقی درآمد کرنا ہوگی۔





Leave a Reply