پری شندور پولو ٹورنامنٹ 2026 کا ٹاس اختلافات کے باعث نہ ہوسکا
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز )پری شندور پولو ٹورنامنٹ 2026 کے سلسلے میں ٹاؤن ہال چترال میں 8 مئی کو منعقد ہونے والا ٹاس سول اور فورسز ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ٹورنامنٹ فارمیٹ پر اختلافات کے باعث نہ ہو سکا۔ جبکہ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز 10 مئی سے ہونا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ٹاؤن ہال چترال میں ٹورنامنٹ کے شیڈول اور ٹاس کے انعقاد کے لیے اجلاس منعقد ہوا، تاہم سول ٹیموں کے کھلاڑیوں نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے پچھلے سال کے فارمیٹ کے مطابق شیڈول ترتیب دینے کا مطالبہ کیا۔ کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ پری کوارٹر فائنل یا کوارٹر فائنل مرحلے تک سول ٹیمیں آپس میں مقابلے کریں جبکہ فورسز اور چترال اے جیسی مضبوط ٹیموں کو بعد کے مرحلے میں شامل کیا جائے۔
سول ٹیموں کے کھلاڑیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ سال بھر صرف پولو کے لیے 12 سے 15 لاکھ روپے کےگھوڑے پالتے ہیں جن پر لاکھوں روپے تک اخراجات بھی آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کی ثقافت اور روایتی کھیل پولو کو زندہ رکھنے میں مقامی کھلاڑیوں اور گھوڑوں کے مالکان کا بنیادی کردار ہے۔
کھلاڑیوں نے کہا کہ ضلع بھر کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں 40 سے 50 ہزار روپے خرچ کرکے ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے آتی ہیں، لیکن پہلے ہی مرحلے میں فورسز یا چترال اے جیسی مضبوط ٹیموں کے مقابل آنے پر شکست کے بعد واپس جانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ کھیل کے فروغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ یا تو پچھلے سال کی طرز پر فورسز ٹیموں کو الگ گروپ میں رکھا جائے یا پھر گلگت بلتستان کی طرز پر سول اور فورسز ٹیموں کے علیحدہ علیحدہ ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں۔ کھلاڑیوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ پر بھی غور کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال پری شندور پولو ٹورنامنٹ 2025 میں ضلع بھر سے 61 ٹیموں نے حصہ لیا تھا اور سول کھلاڑیوں کے مطالبات پر فورسز ٹیموں کو ایک الگ گروپ میں رکھا گیا تھا۔ ٹورنامنٹ کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو شندور فیسٹیول کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ٹورنامنٹ انتظامیہ کی جانب سے تاحال نئے شیڈول یا فارمیٹ کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ سول کھلاڑی گزشتہ سال کے فارمیٹ پر ہی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے بضد ہیں۔
