2400 ڈاکٹرز میرٹ پر بھرتی کئے جارہے ہیں جبکہ مزید بھرتیاں بھی کی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ کا خیبر گرلز میڈیکل کالج کے کانووکیشن سے خطاب
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبر گرلز میڈیکل کالج کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طالبات اور ا ن کے والدین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ کامیابی صرف طالبات ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے تعلیم و تعمیر اور ترقی و خوشحالی کے لیے امن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب خیبرپختونخوا میں ہر طرف خودکش حملوں، دھماکوں اور بارود کی گونج سنائی دیتی تھی، معاشرہ عدم استحکام کا شکار تھا اور اس بدامنی کے دوران خیبرپختونخوا کے عوام نے بے شمار قربانیاں دیں۔ 2018 میں وہ تاریک دور ختم ہوا اور ترقی و استحکام کا سفر شروع ہوا مگر بعد ازاں بند کمروں کی پالیسیوں کی وجہ سے پھر سے بدامنی نے سر اٹھا لیا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں امن، خوشحالی اور معاشی استحکام کی فضا قائم ہوئی، معیشت مضبوط ہوئی اور جی ڈی پی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم 2022 میں رجیم چینج کے ذریعے ایک حقیقی جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا گیا جس کے بعد ملکی حالات تیزی سے خراب ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج شرح نمو کم ہو کر 3 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ مسلط شدہ ٹولے کے پاس عوامی فلاح کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران صرف پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے اور عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ہی مہینے میں بار بار اضافہ کر کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں شدت پسندوں کی دوبارہ آبادکاری کے فیصلے پرہم مسلسل خبردار کرتے رہے کہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے اور صوبے کا امن متاثر ہوگا، مگر کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا کہ آج غریب عوام اس فیصلے کی قیمت چکا رہے ہیں، کولیٹرل ڈیمیجز کی صورت میں آئے روزبے گناہ لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور ہر روز جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ قوم کا درد رکھنے والی قابل شخصیات کو بھی نشانہ بنا یا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا محمد ادریس جیسی پررامن اور علمی شخصیت کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، جو پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب تک قوم متحد ہو کر ان پالیسیوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرے گی، اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہوں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی سطح پر عوام کو درپیش مسائل کم کرنے، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی تعلیم، صحت اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2400 ڈاکٹرز میرٹ پر بھرتی کئے جارہے ہیں جبکہ مزید بھرتیاں بھی کی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر اقدامات اسی صورت میں دیرپا نتائج دے سکتے ہیں جب امن ہو گا اور عوام کو تحفظ حاصل ہو گا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طالبات پر زور دیا کہ وہ عملی میدان میں جا کر محنت، خدمت اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں کیونکہ صوبے کو خصوصاً خواتین ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا، صوبائی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی صورت مایوس نہیں ہونے دے گی۔
بعدازاں وزیراعلیٰ نے فارغ التحصیل طالبات میں اسنا دتقسیم کیں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کو گولڈ میڈل پہنائے۔ اس موقع پر کالج کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی اور قومی و صوبائی سطح پر کالج کی اہم کامیابیوں کو اُجاگر کیا گیا۔ صوبائی وزیر برائے صحت خلیق الرحمن اور دیگر اعلیٰ حکا م بھی کانووکیشن میں شریک تھے۔
