World

امید تھی ’زندہ نکلوں گا‘: کان میں بارش کے پانی پر17 دن زندہ رہنے والے عبدالوہاب


ردان کے علاقے پلوڈھیری میں 31 مارچ کو ماربل کی ایک کان میں لینڈ سلائیڈنگ سے 8 مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ متعدد زخمی ہوئے اور ایک عبدالوہاب لاپتہ ہو گئے تھے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری اور مسلسل کارروائی جاری رکھی اور 17 دن تک جاری رہنے والے صبر آزما آپریشن کے بعد بالآخر 16 اپریل کو عبدالوہاب کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا۔

عبدالوہاب، جو گذشتہ ڈیڑھ سال سے کان کنی کے شعبے سے وابستہ ہیں، کے مطابق واقعے والے دن کام معمول کے مطابق جاری تھا کہ اچانک پہاڑ سے مٹی اور پتھروں کا بڑا تودہ گر پڑا۔ ’ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا، سب کچھ ایک دم ہوا، مگر میرا یقین اللہ تعالیٰ پر تھا کہ میں زندہ نکلوں گا۔‘

ملبے تلے دبے رہنے کے دوران ان کے پاس کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، تاہم بارش کا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا بنا رہا۔

عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ اس تمام عرصے میں انہیں کسی شدید جسمانی تکلیف کا سامنا نہیں ہوا اور وہ امید کے ساتھ زندہ رہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واقعے کے بعد ریسکیو کارروائیوں کے دوران متعدد لاشیں نکالی گئیں جن میں ایک لاش کو عبدالوہاب سمجھ کر ان کے گھر منتقل کیا گیا۔

اہل خانہ نے جنازہ ادا کیا، تدفین کی اور سوگ کے مراحل بھی مکمل کیے۔ تاہم چند دن بعد جائے وقوعہ سے ملنے والے کپڑوں پر شبہ پیدا ہوا۔

سترہ دن بعد جب عبدالوہاب زندہ برآمد ہوئے تو یہ خبر اہل خانہ کے لیے ناقابلِ یقین تھی۔

ان کے والد کے مطابق ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ وفات پا چکے ہیں، ہم نے ان کی تدفین بھی کر دی تھی، مگر پھر اچانک خبر ملی کہ وہ زندہ ہیں۔‘





Related Articles

Leave a Reply

Back to top button