
2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق، بی ٹیک گریجویٹس کے لیے روزگار کی شرح 60 فیصد اور آرٹس گریجویٹس کے لیے 45 فیصد ہے۔ 20 سے 24 سال کے تقریباً 45 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں، جبکہ 2024 میں 40 فیصد آئی آئی ٹی گریجویٹس کو بھی ملازمت نہیں ملی۔
دوسری طرف، کمپنیوں کے منافع میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا فائدہ محنت کش طبقے تک نہیں پہنچ رہا۔ مزدوری کو ترقی سے الگ کر دیا گیا ہے، اور یہ ایک سوچا سمجھا عمل ہے۔
منظوری کا بحران
مالدار طبقہ کسی بھی ڈگری کے لیے بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہوتا ہے، بشرطیکہ ادارے کا نام اور شہرت متاثر کن ہو۔ اسی سوچ نے نجی یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ بازار میں کشش پیدا کرنے کے لیے دلکش کورسز متعارف کرائے جا رہے ہیں اور جعلی پلیسمنٹ کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ اور ان کے خاندان اکثر اصل اور دھوکہ دہی میں فرق نہیں کر پاتے۔
ریٹنگ اور منظوری کے نظام بھی قابلِ اعتماد نہیں رہے۔ فروری 2025 میں ایک بڑے اسکینڈل میں این اے اے سی کے افسران کو رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ اس کے باوجود جعلی گریڈز کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ مارچ 2025 میں مدراس ہائی کورٹ نے این آئی آر ایف رینکنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے روک دیا، کیونکہ یہ غیر مصدقہ ڈیٹا پر مبنی تھی۔




