نوماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب 19 کروڑ ڈالر ہوچکا: قائمہ کمیٹی بریفنگ
.
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 9 ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب 19 کروڑ ڈالر ہوچکا ہے۔ چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ پہلے نارمل ٹیکس رجیم تھا، پھر ایک فیصد سسٹم آیا اور اب دونوں لاگو ہیں۔کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کہتے تھے نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے، اب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے۔بریفنگ کے دوران کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ فروری 2026 تک گیس اور پاور سیکٹر کا گردشی قرض 5.1 ٹریلین روپے ہوچکا ہے۔
اس موقع پر ماہر معیشت علی سلمان کا کہنا تھا کہ گیس شعبے کا گردشی قرض تقریباً دو گنا ہوچکا ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اب شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو چکی ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ ملک میں نوجوان خواتین میں بے روزگاری کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔ بریفنگ کے دوران یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ غربت کی شرح 2018 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد ہوگئی ہے۔ ایس پی ڈی سی کے مطابق غربت کی شرح 43.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں عدم مساوات کی شرح 33 اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ غیرقانونی تجارت اور جعلی مصنوعات معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہیں، اسمگلنگ اور جعلی مارکیٹس ٹیکس نظام اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔اس دوران یہ بھی بتایا گیا کہ سیلاب، علاقائی کشیدگی اور زرعی اخراجات میں اضافے سے غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہیں۔ خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور موسمی چیلنجز غذائی بحران کا سبب بن رہے ہیں۔
.
پاکستان و چین کے درمیان 15 اہم معاہدوں پر دستخط، تعاون کے نئے دور کا آغاز
.
بیجنگ(سی ایم لنکس)بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چین کے وزیرِ اعظم لی چیانگ نے شرکت کی۔تقریب کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق 15 اہم دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور چین کے قومی ترقی و منصوبہ بندی کمیشن کے ڈائریکٹر نے ترقیاتی تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط کیے۔ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر چین کے وزیرِ ماحولیات ہوانگ رنچیانگ اور پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔پاکستان اور چین کے درمیان ویٹرنری ویکسین عطیہ کی حوالگی کی دستاویز پر وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر اور چین کے وزیرِ زراعت ڑانگ ڑو نے دستخط کیے۔
خشک میوہ جات کے معائنے، قرنطینہ اور حفظانِ صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول پر چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی وزیر سن می جون اور خلیل ہاشمی نے دستخط کیے، جبکہ مکئی کے نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول پر بھی دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اتفاق ہوا۔مطابقتی جانچ میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف مارکیٹ ریگولیشن کے ڈائریکٹر اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔اس موقع پر چینی خبر رساں ایجنسی اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس پر وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور چینی خبر ایجنسی کے صدر نے دستخط ثبت کیے۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پارٹی اسکول اور پاکستان نیشنل اسکول پبلک پالیسی کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پارٹی اسکول کے نائب صدر شی چن تاؤ اور خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی، آزاد تجارت، کثیرالجہتی تعاون، انسدادِ دہشت گردی آلات، انسانی وسائل کی ترقی اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون سے متعلق متعدد معاہدے بھی طے پائے۔چین فارن افیئرز یونیورسٹی اور پاکستان فارن سروس اکیڈمی کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر ڈی جی فارن سروس اکیڈمی سعید جیلانی اور چینی یونیورسٹی کے پارٹی سیکریٹری نے دستخط کیے۔
