’میں وہ ناقابل معافی خلا کو بھرنا چاہتی تھی‘، آنجہانی مہاشویتا دیوی سے پروفیسر سبھورنجن داس گپتا کی پرانی گفتگو

’میں وہ ناقابل معافی خلا کو بھرنا چاہتی تھی‘، آنجہانی مہاشویتا دیوی سے پروفیسر سبھورنجن داس گپتا کی پرانی گفتگو


آپ نے ایک نازک اور مشکل سوال پوچھا ہے، لیکن میں جواب ضرور دوں گی۔ آپ جانتے ہیں کہ میں ایک معروف بائیں بازو، یا یوں کہیے کمیونسٹ خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے والد منیش گھٹک (قلمی نام ’جوبناشوا‘) ایک باغی شاعر تھے۔ میرے چچا فلم ساز رتوک گھٹک کی مارکسزم سے وابستگی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اور میرے پہلے شوہر، مشہور ڈرامہ نگار بجن بھٹاچاریہ نے تو اِپٹا (انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن) کے سنہری دور میں ’نبنّا‘ (1944) لکھ کر بنگالی ڈراموں کی ایک نئی تحریک کا آغاز کیا تھا۔

جب کبھی میں اس پس منظر پر غور کرتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سرکاری کمیونسٹ تحریکیں ہمارے ملک اور سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل نکالنے میں ناکام رہیں۔ وہ حد سے زیادہ ’پارلیمانی‘ ہو گئیں، اور یہی وہ رجحان تھا جس نے مجھے ’بشائی ٹوڈو‘ اور ’ہزار چوراسی کی ماں‘ لکھنے کی ترغیب دی، ایسی تخلیقات جو سرکاری نظام کی بے رحمی کو بلا مروت بے نقاب کرتی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ میں شدت پسند نکسل وادی تحریک کو ہی واحد حل مانتی ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں حکومت کی بے رحمی کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک ایسے نظام کی خواہش رکھتی ہوں جو مایوس نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔

میں نے خود آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے کئی شدت پسندوں کی سزائے موت کی مخالفت کی ہے۔ صدرِ جمہوریہ کو لکھے اپنے خط میں میری اپیل واضح تھی… ’’بدھ، مہاویر اور گاندھی جی کی اس سرزمین پر ایسا کبھی نہ کہا جائے کہ ہمارے دلوں میں رحم کے لیے جگہ نہیں ہے۔‘‘ میں آج بھی ایک بائیں بازو کی حامی ہوں… ایک سخت گیر بائیں بازو کی حامی۔ میں آج بھی انسانی اور سماجی آزادی کے لیے مناسب راستے کی تلاش میں ہوں۔ اور یہ جس آزادی کی خواہش ہے، وہ لازماً اس مظلوم اور ستائی ہوئی ہندوستانی عورت کی آزادی پر مرکوز ہے۔ میرا اشارہ ’رودالی‘ (1979) اور ’گوہمنی‘ (1993) جیسے کرداروں کی طرف ہے۔

بے شک عورتیں نیم جاگیردارانہ اور پدرشاہی ظلم کے خلاف لڑتی ہیں، خاص طور پر دیہات میں، کیونکہ انہیں جینا ہے اور جیتنا ہے۔ جینا، صرف گزارا کرنا نہیں۔ گوہمنی کے لیے میرے دل میں ایک خاص جگہ ہے۔ اگرچہ 1976 میں قانون بنا کر بندھوا مزدوری ختم کر دی گئی تھی، لیکن پلامو میں یہ جاری رہی۔ 80-1979 میں، جب بندھوا مزدوروں نے اپنی جدوجہد شروع کی، تو میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ گوہمنی اسی زمینی تجربے اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔



Leave a Reply