منگل کو حج کے سب سے مقدس اور مرکزی رکن وقوفِ عرفہ کے موقعے پر مسجد نبوی کے امام شیخ علی الحذیفی نے خطبے میں مسلمانوں پر باہمی ہم آہنگی، تعاون اور اتحاد کو فروغ دینے پر زور دیا۔
شیخ علی الحذیفی نے مسجد نمرہ اور میدان عرفات میں موجود دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمین کو بتایا کہ حج اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے جو خالص توحید اور اللہ کے سامنے مکمل اطاعت پر قائم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حج دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا عظیم موقع ہے جہاں مختلف قومیتوں اور پس منظر رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرتے ہیں، باہمی ہم آہنگی، تعاون اور اتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’رب کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، تقویٰ اختیار کرو اور صرف اللہ سے ڈرو۔‘
شیخ الحذیفی نے مزید کہا کہ حج کی ادائیگی درست طریقے سے اسی وقت ممکن ہے جب انسان اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے، سچ بولے، اور گناہوں، جھگڑوں، اختلافات اور کسی بھی قسم کے گروہی یا سیاسی نعروں سے مکمل اجتناب کرے۔
خطبے میں اسلام کے بنیادی ارکان، تقویٰ کی اہمیت، اور اہلِ ایمان کے لیے اللہ کی مدد کے آفاقی اصولوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
شیخ الحذیفی نے حج کے مناسک کے مراحل ترتیب وار بیان کیے اور حجاج کو ہدایت دی کہ وہ سکون اور نظم و ضبط برقرار رکھیں، ہجوم سے بچیں، اور عوامی سلامتی کے لیے جاری کردہ سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
خطبے کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حجاج کرام کی عبادات قبول فرمائے، امتِ مسلمہ کو اتحاد عطا کرے، اور حرمین شریفین کی خدمت کرنے والی سعودی قیادت کو مزید ترقی و کامیابی نصیب کرے۔
خطبے کے بعد حجاج نے سنتِ نبوی کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کیں۔
اس سے قبل دنیا بھر سے سعودی عرب آئے ہوئے لاکھوں عازمین حج منیٰ میں رات قیام کے بعد منگل کو میدان عرفات میں حج کے سب سے مقدس اور مرکزی رکن وقوفِ عرفہ لیے جمع ہوئے تھے۔
میدانِ عرفات کی حدوود میں طلوعِ آفتاب سے اب تک اندازً 16 لاکھ عبادت گزاروں کا ہجوم موجود ہے۔ عازمین کی زبانوں پر لبیک کے ساتھ ساتھ تسبیح و تمجید ہے، ہاتھ دعاؤں کے لیے بلند ہیں اور یومِ عرفہ پر حج کے اِس اہم ترین رُکن کی ادائیگی کے دوران بے شمار آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں۔
اس موقعے پر عبادت، دعاؤں اور روحانی کیفیت کے مناظر دیکھنے میں آئے۔
نو ذوالحجہ کی صبح ہی حجاج منیٰ سے عرفات پہنچنا شروع ہو گئے تھے، جہاں وہ دن بھر عبادت، تلاوت قرآن، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں وقت گزاریں گے۔
عازمین حج غروب آفتاب تک میدان عرفات کی حدود میں قیام کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں وقوف عرفہ کو حج کا سب سے اہم رکن قرار دیا جاتا ہے۔
دوپہر کے وقت مسجد نمرہ میں خطبۂ عرفہ دیا جائے گا۔
اس کے بعد حجاج پیغمبر اسلام حضرت محمد (ﷺ) کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عرفات مکہ مکرمہ سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک وسیع میدان ہے، جہاں جبل الرحمہ بھی موجود ہے۔
بہت سے حجاج اسی مقام پر خصوصی دعا اور عبادت کرتے ہیں۔
عرفات روانگی سے قبل حجاج نے پیر کا دن منیٰ میں گزارا، جسے یوم الترویہ کہا جاتا ہے، جہاں انہوں نے حج کے اہم ترین مرحلے کے لیے روحانی اور جسمانی تیاری کی۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی حکام نے حجاج کی نقل و حرکت اور حفاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں، جن میں ہجوم کو منظم رکھنے کے نظام، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور ہنگامی امدادی ٹیمیں شامل تھیں۔
شدید گرمی کے باعث محکمہ صحت بھی الرٹ رہا۔ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر حجاج کو پانی زیادہ پینے اور دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہنے کی ہدایت کی گئی۔
غروب آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے جبکہ اگلے مرحلے میں منیٰ میں رمی جمرات ادا کی جائے گی۔
