چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس ویپل ایم پنچولی کی بنچ کے سامنے حکومت کی طرف سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے، جبکہ ملزم کنبہ کی طرف سے ایڈووکیٹ سدھارتھ دَوے موجود تھے۔


i
بھوپال کے ہائی پروفائل ٹویشا شرما قتل معاملہ میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا آج عدالت کے کمرہ میں انتہائی جذباتی دکھائی دیے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’طلاق شدہ بیٹی، مری ہوئی بیٹی سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔‘‘ انھوں نے ٹویشا کی فیملی کے تئیں اپنی ناراضگی بھی ظاہر کی اور کہا کہ انھیں وقت رہتے بیٹی کی شکایتوں پر توجہ دینی چاہیے تھی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس ویپل ایم پنچولی کی بنچ کے سامنے ٹویشا شرما معاملہ میں مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے، جبکہ ملزم کنبہ کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سدھارتھ دَوے نے اپنی بات رکھی۔ ’لائیو لاء‘ کی رپورٹ کے مطابق ایس جی تشار مہتا نے سماعت کے دوران ٹویشا کی ساس اور سابق ضلع جج گریبالا سنگھ کی طرف سے ٹی وی چینل پر انٹرویو دینے، اپنی بہو کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے اور جانچ میں تعاون نہ کرنے کی دلیلیں دیں۔
جب سدھارتھ دَوے نے میڈیا رپورٹس کو لے کر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت درج پورا بیان آج کے اخبار میں شائع ہوا ہے، تو ایس جی تشار مہتا نے کہا ’’خود ٹویشا کی ساس اور سابق ضلع جج گریبالا سنگھ الگ الگ چینلوں پر جا کر انٹرویو دے رہی ہیں اور اپنی بہو کو بدنام کرنے والے بیان دے رہی ہیں۔‘‘ چیف جسٹس آف انڈیا نے سدھارت دَوے کی دلیلوں پر کہا کہ ہم بھی بیانیہ تیار کرنے کے خلاف ہیں، اسی لیے سی بی آئی کو جانچ سونپی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں پولیس اور عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے میڈیا سے ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام کرنے، کسی فریق کے بیان پر دعوے نہ کرنے اور فریقین کے دوستوں اور رشتہ داروں سے بات نہیں کرنے کی اپیل کی ہے۔
بہرحال، سالیسیٹر جنرل مہتا نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کئی بار گریبالا سنگھ کا بیان لینے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ آنا کانی کر رہی ہیں۔ ساس نے جانچ میں تعاون نہیں کیا۔ گریبالا کے وکیل نے اس کی مخالفت کی اور کہا ’’یہ غلط ہے۔ ایسی بات یہاں نہیں کرنی چاہیے۔ انھوں نے بیان ریکارڈ کروایا ہے۔‘‘ ٹویشا شرما کے متاثرہ کنبہ کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ سدھارتھ لوتھرا پیش ہوئے اور انھوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ واقعہ کے 3 دن بعد ایف آئی آر درج ہوئی، ثبوتوں کو محفوظ رکھنے میں بھی لاپروائی برتی گئی۔ انھوں نے کہا کہ گریبالا سنگھ خود ہی اپنا کال ڈاٹا ریکارڈ پیش کر رہی تھیں، جس کی اجازت نہیں ہے۔ ایس جی تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق دہلی ایمس کی ٹیم نے ٹویشا کا دوسرا پوسٹ مارٹم اتوار کو کر لیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

