امریکہ کی طرف سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کی طرف سے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای حتمی معاہدہ پر جلد دستخط کر سکتے ہیں۔ اس معاہدہ میں بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز پوری طرح کھولنے کی بات کہی گئی ہے۔


i
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے پر عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اب اس معاہدہ سے متعلق اعلان کی تیاری کی جا رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کی جانب سے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس پر جلد دستخط کر سکتے ہیں۔ عبوری معاہدے میں بغیر ٹیکس کے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی بات کہی گئی ہے۔ اب لوگ اس بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ آخر آبنائے ہرمز کب کھلے گی؟ اس کا جواب 4 حقائق میں مضمر ہے، جو اس طرح ہیں:
-
آبنائے ہرمز میں پانی کے نیچے ایران کی جانب سے 12 تباہ کن بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔ اس راستے کو کھولنے کے لیے سب سے پہلے انہیں ہٹانا ہوگا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس میں کم از کم 30 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایران یہ کام خود کرنا چاہتا ہے۔ معاہدے کے بعد سپریم لیڈر کے حکم کے بعد یہ عمل شروع کیا جائے گا۔
-
ہائی فریکوئنسی اکنامکس کے چیف ماہر معاشیات کارل وینبرگ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی طے شدہ تاریخ نہیں بتائی جا سکتی۔ کیونکہ معاہدے کے بعد انہیں ہٹانے کا عمل شروع کرنے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ایران امریکہ کو قابل اعتماد بھی نہیں سمجھتا۔ معاہدے کے باوجود اسے حملے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
-
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خلیج فارس میں اس وقت 2000 مال بردار جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنا آسان نہیں ہے۔ جب تک جہازوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں اب کوئی خطرہ باقی نہیں رہا، تب تک انہیں باہر نہیں نکالا جائے گا۔
-
اپریل 2026 میں امریکی اراکینِ پارلیمنٹ کے سامنے آبنائے ہرمز کے حوالے سے وزارتِ دفاع پینٹاگون کے افسران پیش ہوئے تھے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس میں پینٹاگون کا کہنا تھا کہ چھوٹے ٹینکر تو جلد نکل جائیں گے، لیکن بڑے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کم از کم 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

