پہلے 100 یا اس سے زیادہ ملازمین والی کمپنی کو چھنٹنی، لے آف یا بند کرنے سے پہلے سرکاری منظوری لینی ہوتی تھی۔ 300 کی نئی حد کا مطلب ہے کہ 80 فیصد سے زیادہ کمپنیاں سرکاری نگرانی سے نکل جائیں گی۔


i
ہندوستان کے کسی بھی بڑے ہوائی اڈے پر غور کیجیے۔ جہاں کبھی سیکورٹی اور اسکریننگ پوسٹس پر سی آئی ایس ایف کے اہلکار ہوتے تھے، اب ان میں سے کئی ڈیوٹی پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے لوگ انجام دے رہے ہیں۔ ان سے پوچھیے کہ وہ ہر ماہ کتنی رقم گھر لے جاتے ہیں۔ آپ کو شاید ہی کبھی 25,000 روپے سے زیادہ سننے کو ملے، اور اکثر یہ رقم تقریباً 15,000 روپے کے آس پاس ہی ہوگی۔ ممکن ہے کہ کاغذ پر ان کی تنخواہ زیادہ ہو، لیکن انہیں تعینات کرنے والی آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کا اپنا حساب کتاب ہوتا ہے، اور ہر قسم کی تخفیف کا بوجھ انہی ملازمین پر پڑتا ہے۔
اگر ملک کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے عوامی مقامات میں سے ایک کی حقیقت یہ ہے، تو سوچیے کہ کسی چھوٹے شہر یا آپ کے آس پاس کے کسی صنعتی علاقے کی معمولی فیکٹری میں کام کرنے والے کسی بلیو کالر مزدور کی حالت کیا ہوگی۔ انہی کارکنوں کو سب سے زیادہ تحفظ کی ضرورت تھی، لیکن نریندر مودی حکومت کے 4 نئے مزدور قوانین (لیبر کوڈس) نے انہی کو سب سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ نومبر 2025 میں نافذ ہونے والے نئے مزدور قوانین کے لیے مرکزی حکومت کے قواعد اسی ماہ (9-8 مئی کو) نوٹیفائی کیے گئے۔ یہ کوئی آسانی پیدا کرنا نہیں بلکہ اصلاحات کے نام پر استحصال کو قانونی حیثیت دینا ہے۔
29 مزدور قوانین کو 4 قوانین میں یکجا کرنے کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ان قوانین نے دراصل ضوابط پر عمل درآمد کا بوجھ خاص طور پر چھوٹے کاروباروں پر ڈال دیا ہے۔ ان میں سے بعض تبدیلیاں، جیسے کم از کم اجرت، گگ ورکرز کو باضابطہ شناخت، لازمی تقرری نامہ… یہ اچھی ہیں، لیکن اصلاحات کو ان کے بیان کردہ مقاصد سے نہیں بلکہ ان کے ڈھانچے سے پرکھا جانا چاہیے، اور یہ ضابطے بنیادی طور پر سرمایہ اور کارپوریٹ مفادات کی جانب جھکے ہوئے ہیں۔
مزدور قوانین میں اصلاحات کے غیر جانبدارانہ مطالعے میں لبرلائزیشن کے بعد کے 3 عشروں کے تجربات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ 1990 کی دہائی کے مزدور قوانین سے متعلق تبدیلیاں اس سمجھ پر مبنی تھیں کہ مزدوروں کے حق میں سخت قوانین کے باعث رجسٹرڈ مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری، روزگار اور پیداواریت میں کمی آئی ہے۔ یہ ایک اچھی طرح دستاویزی نمونہ تھا، جسے 1958 اور 1992 کے درمیان صنعتی تنازعات ایکٹ میں ترامیم کے بیسلی-برجیس تجزیے کے ذریعے ظاہر کیا گیا تھا۔ یہی تحقیق اس وقت کی اصلاحات کی فکری بنیاد بنی۔ لیکن اگلے 30 برسوں میں غیر رسمی شعبے میں توسیع ہوئی۔ مزدوری مستحکم رہی، جبکہ کارپوریٹ منافع میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس سے یہ سبق ملا کہ مزدوروں کے تحفظ کے اقدامات بذات خود صنعت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے، بلکہ خراب انداز میں بنائے گئے اور غیر مستقل طریقے سے نافذ کیے گئے ضابطے ہی غلط قسم کی ترغیبات پیدا کرتے ہیں۔
دور رس تبدیلی
نئے مزدور قوانین کی حقیقت آشکار کرنے والا ضابطہ چھنٹنی کی حد کو 100 کارکنوں سے بڑھا کر 300 کرنا ہے۔ پرانے صنعتی تنازعات ایکٹ کے تحت 100 یا اس سے زیادہ کارکنوں والی کسی بھی کمپنی کو چھنٹنی، لے آف یا بند کرنے سے پہلے حکومتی منظوری لینی ہوتی تھی۔ 300 کی نئی حد کا مطلب ہے کہ ہندوستان کی 80 فیصد سے زیادہ مینوفیکچرنگ کمپنیاں اب بغیر کسی سرکاری نگرانی کے لوگوں کو ملازمت سے نکال سکتی ہیں۔ کارکنان کے لیے نہ کوئی جواب دہی اور نہ کوئی تحفظ۔
قوانین کے مطابق ہڑتال سے پہلے مزدوروں کو 60 دن کا نوٹس اور 14 دن کی کولنگ آف مدت بھی دینی ہوگی۔ یہ ان کے کسی بھی اچانک اقدام کے حق کو چھینتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی مزدور یونین کو باضابطہ منظوری حاصل کرنے کے لیے اب 51 فیصد رکنیت ضروری ہوگی، یہ ایسی حد ہے جو چھوٹی یونینوں کو حاشیے پر دھکیلتی ہے اور مختلف مزدور گروہوں کے لیے نمائندگی کم کرتی ہے۔ کام کے اوقات، چھٹی اور ملازمت سے برطرفی کے قواعد 300 سے کم مزدوروں والی جگہوں پر نافذ نہیں ہوں گے، جس سے ہندوستان کے بیشتر صنعتی علاقے اس دائرے سے باہر ہو جائیں گے۔
چھوٹی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوں گے، کیونکہ صنعتی یونٹ اسی وقت ’فیکٹری‘ کہلائے گی جب اس میں کم از کم 20 (بجلی والی یونٹ کے لیے) اور 40 یا اس سے زیادہ (بغیر بجلی والی یونٹ کے لیے) کارکن ہوں گے۔ اجرت سے متعلق جرائم کو اب فیس ادا کرکے نمٹایا جا سکتا ہے، جس سے ایسے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوگی کیونکہ ان کی خلاف ورزی کو قابل ادائیگی فیس کے مقابلے میں تولا جائے گا۔
نظر انداز مسائل
نئے قوانین ایسے وقت میں نوٹیفائی کیے گئے ہیں جب لیبر مارکیٹ پہلے ہی گہرے بحران میں ہے۔ دیہی ہندوستان میں حقیقی اجرت 2014 سے تقریباً صفر فیصد بڑھی ہے۔ حکومت کے ہی دورانیہ محنتی قوت سروے کے مطابق، باقاعدہ اجرت مالی سال 22 اور 24 کے درمیان گھٹی جبکہ جی ڈی پی 6.7 فیصد کی شرح سے بڑھی۔ ایک طرف تنخواہیں اور اجرتیں مستحکم رہیں (ہندوستان کے تقریباً 57 فیصد بلیو کالر کارکن ہر ماہ 20,000 روپے سے کم کماتے ہیں)، دوسری طرف 2020 اور 2024 کے درمیان نفٹی 500 کمپنیوں کا منافع 34.5 فیصد کی شرح سے بڑھا۔
پیداواریت کی پیمائش کے لیے آئی ایل او سے تسلیم شدہ کے ایل ای ایم ایس فریم ورک میں سرمایہ، محنت، بجلی، مواد اور خدمات کو پیداوار متعین کرنے والے عوامل سمجھا گیا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ محنت کو صرف مقداری انداز میں نہیں بلکہ معیار یعنی تعلیم، مہارت اور کام کی نوعیت کے لحاظ سے بھی ناپا جائے۔ اس فریم ورک میں ایسی معیشت جو محنت کو سستا بناتی ہے، مختلف کمپنیوں کے لیے قلیل مدتی خرچ کے فوائد تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن مہارت اور طلب میں کمی کی وجہ سے پیداواریت بھی کم ہو جاتی ہے۔ نئے قوانین ان باتوں پر توجہ نہیں دیتے۔ مودی حکومت نہ تو کوئی وائٹ پیپر لے کر آئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی اور دستاویز جاری کی جس میں مزدور قوانین، اجرت اور پیداواریت کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہو۔ کوئی شفاف اور شواہد پر مبنی ’پالیسی مباحثہ‘ نہیں ہوا۔ جب حکومت کا اپنا اقتصادی سروے 2024-25 کم روزگار کو تسلیم کرتا ہو تو یہ ایک بڑی ناکامی بن جاتی ہے۔
آئی ٹی، گگ ورکر اور غیر یقینی
54 لاکھ ملازمین اور سالانہ 250 ارب ڈالر کی برآمدات کرنے والے ہندوستان کے آئی ٹی شعبے میں لیبر کوڈس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پہلے 2023 اور پھر اے آئی کی وجہ سے 26-2025 میں بڑے پیمانے پر چھنٹنیاں ہوئیں اور اس میں حکومت کی کوئی مداخلت نہیں رہی۔ اس شعبے میں کوئی مؤثر ٹریڈ یونین نہیں ہے۔ نان کمپیٹ شق ’ویری ایبل پے‘ اور فوری ملازمت سے برطرفی کے ضابطے عام ہیں۔ نئے مزدور قوانین ان میں سے کسی چیز کو نہیں بدلتے!
ہندوستان کی 1.2 کروڑ پر مشتمل وسیع ’گِگ ورک فورس‘ کے 2030 تک بڑھ کر 2.35 کروڑ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ قانونی طور پر اسے باضابطہ شناخت ملنا مثبت قدم ہے، لیکن ایگریگیٹرز کی جانب سے اس افرادی قوت کے لیے فلاحی فنڈ میں اپنے ٹرن اوور کا صرف 2-1 فیصد حصہ دینا اور ایسی شرحیں مقرر کرنا کہ صرف گزارے کے لیے 16-14 گھنٹے کام کرنا پڑے، تشویش ناک ہے۔ اسے ’’سماجی تحفظ‘‘ نہیں کہا جا سکتا، یہ تو ایک فریب ہے۔
ان سے متعلق قوانین کے فوائد کے لیے مجوزہ 90 دن کی اہلیت مدت کی وجہ سے لاکھوں ایسے لوگ اس سے باہر رہ جائیں گے جو کئی پلیٹ فارمز پر کام کرتے ہیں یا موسمی ملازمین ہیں۔ الگوردمک ڈی بورڈنگ، جس کا مطلب کسی ملازم کو بغیر کسی اطلاع یا انسانی جائزے کے کسی ایپ سے بلاک کر دینا ہے، اور اس کے لیے چاروں ضابطوں میں کہیں بھی کوئی قانونی سہولت موجود نہیں ہے۔ یہ ضابطے خوردہ، مالی خدمات، مہمان نوازی اور میڈیا جیسے شعبوں میں غیر یقینی ’وائٹ کالر‘ ملازمتوں میں کام کرنے والے بڑی تعداد میں ملازمین کو بھی نظر انداز کرتے ہیں، جہاں ملازمین کو بغیر کسی اوور ٹائم کے طویل وقت تک کام کرنا پڑتا ہے، اور انہیں ملنے والی ’کارکردگی پر مبنی‘ اجرت اکثر ان کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے۔ ان لوگوں کے پاس اپنی بات رکھنے کے لیے نہ کوئی یونین ہے اور نہ ہی ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی ادارہ جاتی آواز۔
پوشیدہ پیغام
اس بحث کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو معاشیات سے آگے جاتا ہے۔ تاریخی طور پر مزدور تنظیمیں اور طلبا تحریکیں ہندوستان کی جمہوری قیادت کی نرسری رہی ہیں۔ گزشتہ 3 عشروں میں ان دونوں کو منظم انداز میں حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت کو دوبارہ صحت مند بنانے کے لیے ان اداروں کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ بی جے پی کبھی بھی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔ اسی وجہ سے کانگریس اور اپوزیشن کو محنتی حقوق کی بحالی کے لیے لڑنا چاہیے، ایک آئینی حق کے طور پر اور ایک متبادل سیاسی نظریے کے مرکزی نقطے کے طور پر۔
کیا بدلنا ضروری ہے
قوانین میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ چھنٹنی کی حد کو دوبارہ 100 ملازمین تک لانا ہوگا، یا پھر اس کی جگہ مختلف درجات والی، قابل نفاذ تحفظاتی نظام لانا ہوگا۔ یونین کی منظوری کے لیے 51 فیصد کی حد کو ختم کر کے اس کی جگہ متناسب نمائندگی کا نظام لانا ہوگا۔ 60 دن پہلے ہڑتال کا نوٹس دینے کی شرط بھی ختم کرنا ہوگی، یہ غیر آئینی ہے۔
انوپ ستپتی کمیٹی کی سفارش کے مطابق 2019 کی قیمتوں پر 375 روپے یومیہ کی ایک مؤثر قومی کم از کم اجرت، جو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ ہو، نافذ کی جانی چاہیے۔ ایک الگوردم جواب دہی ایکٹ کے تحت پلیٹ فارمز کے لیے خودکار کام کی تقسیم، قیمتوں کے تعین اور تادیبی فیصلوں کے پس منظر کے منطق کو ظاہر کرنا لازمی ہونا چاہیے۔ ایک عالمی سماجی تحفظ فنڈ ہونا چاہیے جس میں گگ ورک، پلیٹ فارم ورک، ٹھیکے پر کام اور غیر رسمی کام سمیت ہر قسم کی ملازمت شامل ہو۔ اور کسی بھی دیگر قانون سازی سے پہلے ہندوستان میں پیداواریت کے فرق کی وجوہات پر عوامی وائٹ پیپر تیار کرنے کے لیے ایک آزاد قومی لیبر پروڈکشن کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔
نوئیڈا، سورت، ہلدوانی، مانیسر، گروگرام، فرید آباد اور بھیونڈی میں حالیہ مزدور تحریکیں مقامی شکایات نہیں تھیں، وہ ملک گیر بغاوت کے ابتدائی اشارے (انتباہ) تھیں۔ مزدور بتا رہے تھے کہ ایسی صورت حال میں ہمیں کیا توقع رکھنی چاہیے جب ایک دہائی تک اجرتوں کو منجمد رکھا جائے، جب تحفظ کے حصار چھین لیے جائیں اور منظم ہونے کے حق کو منظم انداز میں کمزور کر دیا جائے۔ حکومت نے تب بھی اسے نظر انداز کر دیا تھا۔ نئے مزدور قوانین اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر حکومت اب بھی اس جانب توجہ نہیں دیتی، تو وہ عوامی بغاوت کے لیے زمین ہموار کر رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

