مغربی بنگال میں پہلی بار حکومت قائم کرنے کے بعد بی جے پی بہت عجلت میں ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ وہ جلد از جلد ریاست کی شکل و صورت بدل دے۔ وہ ایک سیکولر اسٹیٹ کو ہندو اسٹیٹ بنانے کے لیے بے چین ہے۔ لہٰذا اتنی تیزی سے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں اور کارروائیاں ہو رہی ہیں کہ دیکھنے والے حیرت زدہ ہیں۔ اپوزیشن ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنما سوویندو ادھیکاری حکومت کے احکامات اور اقدامات کو انتقامی سیاست کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ بظاہر اس الزام میں صداقت نظر آتی ہے۔ جس طرح ٹی ایم سی رہنماؤں، کارکنوں اور اس سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے وہ اس الزام کو حق بجانب ثابت کرتا ہے۔
جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا اور ٹی ایم سی کی شکست اور بی جے پی کی فتح ہوئی تو اس کے فوراً بعد ہی تشدد کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ بی جے پی کے کارکنوں نے ٹی ایم سی کے دفاتر پر حملے کیے۔ ان کو نذر آتش کیا اور بہت سے دفاتر کو تہس نہس کر دیا۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے جو بیانات دیے گئے ان میں ٹی ایم سی کے کارکنوں کو قصوروار بتایا گیا۔ تشدد میں ملوث بی جے پی کارکنوں کے خلاف ایکشن نہ لینا پڑے اس لیے یہ بہانہ بنایا گیا۔ ادھر ٹی ایم سی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری بھی عمل میں آرہی ہے۔ ان پر مختلف قسم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی نے اس کارروائی کو انتقامی سیاست قرار دیا ہے۔ ادھیکاری حکومت نے ممتا حکومت کے دوران خواتین کے خلاف مظالم کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
