ٹرمپ انتظامیہ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کو ملک چھوڑ کر اپنے آبائی ملک میں درخواست دینا ہوگی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس ’حیران کن‘ فیصلے نے کئی دہائیوں پرانی پالیسی کو بدل دیا ہے اور امدادی تنظیموں، امیگریشن وکلا اور تارکین وطن میں الجھن اور تشویش پیدا کر دی ہے۔
نصف صدی سے زائد عرصے سے، قانونی حیثیت رکھنے والے غیرملکی شہری امریکہ میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے اور پورا عمل مکمل کرنے کے اہل رہے ہیں، جن میں امریکی شہریوں سے شادی کرنے والے افراد، ملازمت اور تعلیمی ویزا رکھنے والے، پناہ گزین اور سیاسی پناہ کے متلاشی شامل ہیں۔
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کی جانب سے اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں عارضی طور پر موجود وہ غیرملکی جو قانونی مستقل رہائشی یا گرین کارڈ ہولڈر بننے کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں، انہیں واپس اپنے ملک جا کر درخواست دینا ہوگی، سوائے ’غیرمعمولی حالات‘ کے۔
یہ فیصلہ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے افسران کریں گے کہ آیا درخواست گزار ان شرائط پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔
ادارے نے ایک بیان میں کہا: ’نان امیگرینٹس جیسے طلبہ، عارضی کارکن یا سیاحتی ویزا رکھنے والے افراد، مختصر مدت اور ایک مخصوص مقصد کے لیے امریکہ آتے ہیں۔ ہمارا نظام اس بنیاد پر بنایا گیا ہے کہ ان کے دورے کے اختتام پر وہ واپس چلے جائیں۔ ان کا قیام گرین کارڈ کے عمل کا پہلا مرحلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
یہ ٹرمپ انتظامیہ کا تازہ ترین اقدام ہے جس کے ذریعے امریکہ میں پہلے سے موجود غیر ملکیوں اور یہاں آنے کے خواہش مند افراد کے لیے قانونی امیگریشن کو مزید مشکل بنایا جا رہا ہے۔
ہر سال لاکھوں افراد امریکہ میں گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے سابق سینیئر مشیر ڈوگ رینڈ نے کہا: ’اس پالیسی کا مقصد بالکل واضح ہے۔ اس انتظامیہ کے سینیئر حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ کم لوگ مستقل رہائش حاصل کریں کیونکہ مستقل رہائش شہریت کی طرف ایک راستہ ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے اس راستے کو بند کرنا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ میں پہلے سے موجود تقریباً چھ لاکھ افراد ہر سال گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تبدیلی کب نافذ ہوگی، آیا افراد کو پورے عمل کے دوران دوسرے ملک میں ہی رہنا ہوگا، یا یہ پالیسی ان غیر ملکیوں پر بھی لاگو ہوگی جن کی گرین کارڈ درخواستیں پہلے سے زیرِ عمل ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل کے ذریعے جاری بیان میں ادارے نے کہا کہ جو لوگ ’معاشی فائدہ ‘ یا ’قومی مفاد‘ فراہم کرتے ہیں، وہ غالباً امریکہ میں رہ سکیں گے جبکہ دیگر کو درخواست دینے کے لیے بیرونِ ملک جانا ہوگا۔
یہ تبدیلیاں ان اقدامات کے علاوہ ہیں جو انتظامیہ پہلے ہی درجنوں ممالک کے افراد کے داخلے کو محدود یا روکنے کے لیے کر چکی ہے۔
بعض صورتوں میں ان ممالک سے سفر پر مکمل پابندی ہے جبکہ کچھ دیگر ممالک کے شہریوں کے ویزا عمل کو روک دیا گیا ہے۔
ماہرین اور وکلا نے خبردار کیا ہے کہ ان ممالک کے افراد کو گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے کی غرض سے واپس بھیجنے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دوبارہ امریکہ نہیں آ سکیں گے۔
انسانی امداد اور پناہ گزینوں کی آبادکاری کے ادارے ورلڈ ریلیف نے لکھا: ’اگر خاندانوں کو بتایا جائے کہ غیر شہری خاندان کے فرد کو تارکِ وطن ویزا کے عمل کے لیے اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا، لیکن وہاں تارکِ وطن ویزے جاری ہی نہ ہو رہے ہوں، تو یہ ایک پیچیدہ صورت حال بن جاتی ہے۔ یہ پالیسیاں درحقیقت خاندانوں کی غیر معینہ مدت تک علیحدگی کا باعث بنیں گی۔‘
یہ تبدیلی کن لوگوں پر لاگو ہوگی، الجھن برقرار
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے اس تبدیلی کو ’قانون کے اصل مقصد‘ کی طرف واپسی اور ایک ’خاموش راستہ بند کرنے‘کے طور پر بیان کیا۔
لیکن امیگریشن وکلا اور امدادی گروپوں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کئی گروہوں کے لیے امریکہ میں رہتے ہوئے اپنی حیثیت تبدیل کرنا ایک طویل عرصے سے رائج عمل رہا ہے اور بہت سے لوگ اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہاں جانا محفوظ نہیں یا وہاں درخواست دینے کے لیے سفارت خانہ موجود نہیں۔
مثال کے طور پر افغانستان میں امریکی سفارت خانہ اگست 2021 میں امریکی انخلا کے بعد سے بند ہے۔
امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن میں حکومتی تعلقات کی سینیئر ڈائریکٹر شیو دلار-دھینی نے کہا: ’امریکی شہریت و امیگریشن سروسز حیثیت کی تبدیلی کے کئی دہائیوں پر محیط عمل کو یکسر بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بہت وسیع پیمانے پر ہر اس شخص پر لاگو ہو سکتا ہے جو گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان افراد میں امریکی شہریوں سے شادی کرنے والے لوگ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تحفظ حاصل کرنے والے تارکین وطن جو گرین کارڈ کے لیے درخواست دے رہے ہیں، ملازمت کے ویزا رکھنے والے ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد، نیز تعلیمی اور مذہبی ویزا رکھنے والے شامل ہو سکتے ہیں۔
دلار-دھینی کے مطابق بیرونِ ملک بعض امریکی قونصل خانوں میں ویزا ملاقات کے انتظار کا دورانیہ ایک سال سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
امیگریشن وکلا جمعے کی سہ پہر پالیسی یادداشت اور اعلان کا جائزہ لیتے رہے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ کن افراد پر لاگو ہوگا۔
تارکین وطن کو قانونی اور دیگر معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے مؤکلوں کی جانب سے مسلسل سوالات موصول ہو رہے ہیں کہ اس نئی ہدایت کا ان پر کیا اثر پڑے گا۔
کم آمدنی والے تارکین وطن کو قانونی خدمات فراہم کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم کیلیفورنیا امیگریشن پروجیکٹ کی سینیئر وکیل جیسی ڈی ہیون نے کہا: ’یہ سمجھنا واقعی مشکل ہے کہ اس کا اطلاق کس طرح کیا جائے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ اس سے لوگوں میں درخواست دینے سے متعلق خوف اور ہچکچاہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔‘
