’’رجوان بھائی ایک بات سننا ،ام کو ٹی ٹوئنٹی میں وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ کے بارے میں کچھ ٹپس تو دو ‘‘ چند سال پہلے لٹن داس کی رضوان سے بات چیت۔
’’ اب اس کی ایکٹنگ شروع ہو گئی،اوور ایکٹنگ کے پچاس روپے کٹیں گے ‘‘ لٹن داس کی رضوان پر حالیہ جملہ بازی۔
کرکٹ ہو یا کوئی اور فیلڈ آپ کی عزت کام سے ہوتی ہے،پرفارمنس اچھی ہو تو کسی سے کچھ کہنا نہیں پڑتا سب ویسے ہی عزت کرتے ہیں ، جب ایسا نہ ہو تو کچھ کم ظرف اپنی اصلیت دکھا دیتے ہیں، آپ کو یاد ہو گا کہ عامر سمیت بعض پاکستانی کرکٹرز کوہلی سے کتنے زیادہ متاثر ہوتے تھے، کبھی بیٹ لیتے تو کبھی شرٹ پر سائن کروا رہے ہوتے تھے، ذہنی طور پر کسی سے اتنا مرعوب بھی نہیں ہونا چاہیے ورنہ فیلڈ میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے، البتہ لٹن داس جیسا رویہ بھی درست نہیں، فقرے بازی الگ بات لیکن کسی کو اشتعال دلانے کیلیے تضحیک نہیں کرنی چاہیے۔
ان بنگلہ دیشی پلیئرز کی بھارت کیخلاف کھیلتے ہوئے آواز نہیں نکلتی، افغانی بھی اچھے بچے بن کر رہتے ہیں کہ شاید تابعداری کی وجہ سے آئی پی ایل کے معاہدے مل جائیں ، پاکستانیوں کا یہ ریکارڈ ہے کہ ہم جس کے ساتھ اچھا کرتے ہیں وہی کبھی احسان نہیں مانتا، حالات اس نہج پر کیسے پہنچے کہ بنگلہ دیشی کرکٹرز بھی ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔
لٹن داس طعنے دینے لگے، یہ جاننے کیلیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں جب ہم دو ٹک،خیر یہ جملہ رہنے دیں کہیں لوگ برا نہ مان جائیں، تھوڑا بہتر کر کے کہتا ہوں کہ جب ہم اوسط درجے کی ٹیم سے لگاتار چار ٹیسٹ اور ہوم اینڈ اوے سیریز ہاریں گے تو ایسا ہی ہوگا ، بنگلہ دیش کے ہاتھوں ایسی شکستوں کا کبھی سوچا نہ تھا۔
ماضی میں ہمارے فاسٹ بولرز کا سامنا کرنے کا سوچ کر بڑے بڑے بیٹرز کی نیندیں اڑ جایا کرتی تھیں، اب ہم جنھیں فاسٹ بولرز اور آل رائونڈرز کے نام پر سلیکٹ کرتے ہیں وہ خود اپنے نام کے ساتھ یہ لکھا دیکھ کر شرما جایا کرتے ہوں گے، جینوئن پیسرز کا نہ ملنا جینوئن مسئلہ ہے جسے حل کرنا چاہیے۔
ہمارے سابق اسٹارز نے ملک سے نام اور پیسہ تو خوب بنایا لیکن بیشتر اب غیرملکی پاسپورٹ لے کر صرف پیسہ کمانے کا کوئی موقع ملنے پر ہی پاکستان آتے ہیں ، وقار یونس کبھی کوچ تو کبھی کمنٹیٹر بن کر کھیل کی ’’ خدمت ‘‘کرتے ہیں ورنہ آسٹریلیا میں وقت گذرتا ہے، وسیم اکرم نے خود کو اب تک ریلیوینٹ رکھا ہوا ہے لیکن کوئی ذمہ داری لینے سے بھاگتے ہیں۔
ان دونوں نے کیا اپنے جیسا کوئی پیسر تلاش کرنے کی کوشش کی؟انضمام الحق اور جاوید میانداد کو اپنے بھانجے،بھتیجوں کے سوا کیا کہیں اور کوئی ٹیلنٹ نظر آیا؟انھوں نے کیا کنٹری بیوٹ کیا، موجودہ ٹیم کا جو حال ہوا اس میں سینئرز کا بڑا کردار ہے،کسی نے ذمہ داری نہ لی ہاں جب آخری اننگز آئی تو ٹیم میں جگہ بچانے کیلیے تھوڑے رنز بنا دیے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کے ٹاپ کرکٹرز کی پرفارمنس سب کے سامنے ہے ، سعود شکیل کا رویہ اور ایروگینس ایسی ہے جیسے وہ ڈان بریڈ مین کے کوچ رہے ہوں لیکن پرفارمنس کیا ہے؟ بابر اعظم جس لیول کے کھلاڑی ہیں انھیں تو ڈبل سنچری بنانا چاہیے تھی لیکن وہ تھوڑے رنز کو ہی کافی سمجھنے لگے ہیں، شان مسعود،امام الحق ،سلمان علی آغا اور محمد رضوان کی کارکردگی میں بھی تسلسل نام کی کوئی چیز موجود نہیں،شان نے کپتانی میں بھی مایوس کیا، ٹی ٹوئنٹی قائد سلمان کی طرح وہ بھی بیحد شریف انسان ہیں لیکن ایسی کوالٹی تو رشتہ طے کرتے وقت دیکھی جاتی ہے ۔
کرکٹ میں شرافت کو کپتانی سونپنے کا پیمانہ نہیں بنانا چاہیے، شان اکثر مواقع پر الگ تھلگ نظر آئے، صاف ظاہر ہے کہ انھیں ساتھی کھلاڑیوں نے دل سے قبول نہیں کیا، حالانکہ وہ گھلنے ملنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، فیلڈ میں شان کو تگڑا کپتان ہونا چاہیے جو غلطیوں پر کھلاڑیوں پر سختی بھی کرے ، ورنہ لوگ ’’ فار گرانٹڈ ‘‘ لیتے ہیں، ریویو کا فیصلہ کرنے سے قبل شان کو بھاگ بھاگ کر ساتھیوں سے پوچھنا پڑتا تھا، رضوان خود کیچ لے کر بھی الٹا مشورہ دیتے رہے، جو آئوٹ تھے ان پر ریویو نہ لیا جو ناٹ آئوٹ تھے ان پر ریوو گنوا دیا، ویسے ہی ٹیم کی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں حالت پتلی تھی سلو اوور ریٹ پر 8 پوائنٹس گنوا کر فائنل کھیلنے کا مدھم سا امکان بھی ختم کر دیا۔
سب جانتے ہیں ایک گھنٹے میں 15 اوورز کرنا ضروری ہیں، ہر گھنٹے بعد امپائرز خود بتاتے ہیں کہ اتنے اوورز کم کیے، پھر ایسی غلطی کیسے ہو گئی؟ شان مسعود پر تنقید ضرور کریں لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ ٹیم یکجا نہیں ہے، سب اپنے لیے کھیل رہے ہیں،پہلے تو ہم کہہ دیتے تھے کہ فلاں پلیئر کو نہیں سلیکٹ کیا اس لیے ہار گئے، اب کون سا تیس مار خان باہر ہے؟
نئے کھلاڑی باصلاحیت ہیں لیکن پوری ٹیم میں تو انھیں شامل نہیں کر سکتے، تجربہ کار کرکٹرز کے ساتھ چند ینگسٹرز کا امتزاج درست ہے،اذان اویس اور عبداللہ فضل نے پہلے ٹیسٹ میں صلاحیتوں کا لوہا منوایا لیکن دوسرے میچ میں جب ذمہ داریوں کا بوجھ پڑا تو ناکام ہو گئے،اس میں ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں، انھیں سیٹ ہونے میں وقت لگے گا،ابھی سب کو کپتانی بھی نظر آ رہی ہے، بابر کے چاہنے والوں کا بس نہیں چل رہا کہ انھیں دوبارہ ذمہ داری دلا دیں حالانکہ ماضی میں وہ کئی بار قیادت میں ناکام رہ چکے، بیٹنگ پر بھی منفی اثر پڑا، دوست بھی دشمن بن گئے، شاید بورڈ بھی ایسا نہ کرے اور سلمان علی آغا کی لاٹری کھل جائے۔
خیر فیصلہ جو بھی ہو ملکی کرکٹ کا فائدہ ہونا چاہیے،پاکستانی شائقین کی تیزی سے کھیل میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے، ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کیلیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے،ورنہ سال میں 2 پی ایس کروا لیا کریں اس میں پاکستان نہیں ہارتا لہٰذا وقت سکون سے گذر جاتا ہے۔
