ٹیکس پابندیاں سخت کرنے کی تیاریاں، بڑے مالدار افراد نشانے پر

ٹیکس پابندیاں سخت کرنے کی تیاریاں، بڑے مالدار افراد نشانے پر


وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بڑے مالدار افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹیکس پابندیاں سخت کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا ہدف غیر دستاویزی معیشت کو محدود کرنا اور مالی نظام کو مزید شفاف بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق امیر ترین طبقے کے مالی لین دین پر کڑی نگرانی، مشتبہ ٹرانزیکشنز کی جانچ اور بعض کاروباری سرگرمیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اضافی اختیارات دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ ٹیکس چوری میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔

حکومتی منصوبے کے تحت نان فائلرز کے لیے مزید سخت شرائط متعارف کرانے اور بڑے مالی لین دین کو ریگولیٹ کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور قومی آمدن میں اضافہ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب تاجروں کے لیے ایک آسان ٹیکس اسکیم بھی زیر غور ہے، جس کے تحت سالانہ فروخت پر ایک فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اسکیم میں رجسٹرڈ تاجروں کے لیے کم از کم ٹیکس کی شرط بھی شامل ہو سکتی ہے۔

مزید تجویز کے مطابق تاجروں کو پوائنٹ آف سیل رجسٹریشن سے استثنیٰ اور سادہ ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے کی سہولت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ عالمی مالیاتی فنڈ کی مشاورت سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری طبقے کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جا سکے۔



Leave a Reply