روسی صدر ولادیمیر پیوٹن چین کے اہم دورے پر بیجنگ پہنچ گئے جہاں وہ اپنے قریبی اتحادی اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ عالمی سطح پر اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد یہ ملاقات غیر معمولی توجہ حاصل کرچکی ہے۔
کریملن کے مطابق دونوں رہنما ملاقات میں روس چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے کی صورتحال، عالمی سیاست، توانائی اور اقتصادی تعاون سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق روس اور چین کے تعلقات 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد مزید گہرے ہوئے ہیں۔ مغربی پابندیوں کے باعث روس اب معاشی طور پر بڑی حد تک چین پر انحصار کر رہا ہے جبکہ چین روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ دوسری جانب پیوٹن نے چینی عوام کیلئے جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس اور چین کے تعلقات “تاریخ کی بلند ترین سطح” پر پہنچ چکے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ دورہ امریکا کو واضح پیغام دینے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے کہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات کسی بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ دونوں رہنما ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کریں گے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی، ایران اسرائیل تنازع اور توانائی بحران کے تناظر میں روس چین تعلقات آنے والے دنوں میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
