امریکہ میں مسجد کے باہر اندھا دھند فائرنگ میں 3 افراد ہلاک، دونوں حملہ آور کی بھی موت

امریکہ میں مسجد کے باہر اندھا دھند فائرنگ میں 3 افراد ہلاک، دونوں حملہ آور کی بھی موت


پولیس اب پورے واقعے اور حملے کے پیچھے کی وجہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ مذہبی منافرت سے کیا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

امریکہ میں بندوق کے تشدد اور نفرت پر مبنی جرائم پر مشتمل ایک خاص طور پر خوفناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پیر کو کیلیفورنیا کی سان ڈیاگو کاؤنٹی میں 2 مسلح افراد نے سب سے بڑے اسلامی مرکز کے باہر فائرنگ کی۔ اس خوفناک حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ حملہ کرنے کے بعد دونوں حملہ آوروں نے قریبی گلی میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی، ایف بی آئی اور مقامی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں کیونکہ یہ مشتبہ نفرت انگیز جرم ہے جس میں مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ دوپہر 12 بجے سے کچھ پہلے اس وقت پیش آیا جب لوگ مسجد کے احاطے میں موجود تھے۔ اچانک فائرنگ سے مسجد میں موجود نمازیوں اور اسکول کے بچوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سان ڈیاگو کے پولیس چیف ا سکاٹ واہل نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موجود تھی، اور مسجد کے اندر موجود ڈے اسکول میں جانے والے تمام بچوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو انہیں مسجد کی عمارت کے باہر تین افراد کی لاشیں ملیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس بہادر گارڈ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آوروں کو مرکزی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا، جس سے بڑے قتل عام سے بچا گیا۔

حملے کے کچھ دیر بعد، تفتیش کاروں نے قریبی سڑک پر کھڑی ایک مشکوک کار کے اندر سے دو نوعمر جن میں ایک کی عمر 17 اور دوسرے کی عمر  19 بتائی جا رہی ہے ان کی لاشیں دریافت کیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ دونوں اہم شوٹر تھے جنہوں نے حملے کے بعد خود کو گولی مار لی۔

مبینہ طور پر چند بلاکس کے فاصلے پر ایک مالی (زمین کی تزئین کرنے والے) کو بھی گولی مار دی گئی۔ تاہم وہ محفوظ ہے اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس کا مسجد پر حملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ ایف بی آئی اور مقامی ایجنسیاں فی الحال حملہ آوروں کے ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ اس گھناؤنے نفرت انگیز جرم کے پیچھے محرکات اور سازش کو پوری طرح سے بے نقاب کیا جا سکے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Leave a Reply