بلوچستان میں ہفتے کو دالبندین، تربت، نوشکی اور مستونگ میں فائرنگ، حملوں اور توڑ پھوڑ کے مختلف واقعات میں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر جان سے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دونوں واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد خواتین، اساتذہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کا قتل بلوچستان کے امن پر حملہ ہے جبکہ اساتذہ کو نشانہ بنانا صوبے کی علمی و ادبی شناخت پر حملہ ہے۔
وزارت داخلہ بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ پاک ایران بارڈر کے قریب واقع دالبندین شہر میں مسلح افراد نے پولیس سٹیشن اور جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ ان کے مطابق مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگائی، جبکہ بعد ازاں ایک گھر میں پناہ لی، جسے فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔
بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آور دالبندین تھانے سے 14 سے زائد قیدی بھی چھڑا کر لے گئے۔ ان کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
نوشکی میں براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر، شاعر اور ادیب غمخوار حیات کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ایس ایس پی سلیم شاہوانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ غمخوار حیات پر نوشکی کے علاقے مینگل آباد میں حملہ کیا گیا، جہاں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
انہوں نے کہا کہ قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے بیان میں کہا کہ ’پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
غمخوار حیات نے ماسٹرز کی ڈگری کے بعد 2014 میں براہوی زبان کے لیکچرر کے طور پر خدمات شروع کیں اور اس وقت ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔
ضلع کیچ کے علاقے تربت میں لیڈی پولیس کانسٹیبل شکیلہ کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ کورٹ ڈیوٹی کے لیے جا رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آبسر ریسرچ فارم کے قریب کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق شکیلہ موقع پر ہی جان سے گئیں جبکہ ان کے شوہر اور آٹھ سالہ بیٹے زخمی ہوئے، تاہم ان کی گود میں موجود چھ ماہ کا بچہ محفوظ رہا۔
مکران ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عمران قریشی نے بتایا کہ شکیلہ کو گذشتہ کئی ماہ سے شدت پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں کہ وہ ملازمت چھوڑ دیں۔ ان کے مطابق شکیلہ کے شوہر پہلے ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ رہے تھے لیکن بعد میں ہتھیار ڈال چکے تھے۔
جمعے کو مستونگ اور نوشکی میں بھی مسلح افراد نے کوئٹہ ـ تفتان شاہراہ پر کارروائیاں کیں۔ پولیس کے مطابق مستونگ کے علاقے کانک میں کرومائیٹ لے جانے والی پانچ گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ نوشکی کے علاقے مَل میں مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی چیکنگ کی اور ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
اسی دوران جمعرات کو مستونگ کے قریب سے گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اور دو اساتذہ کو نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے تھے، جن کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
