62 سال پرانا نظام ختم، حکومت کا سرکاری ملازمین کیلئے نیا سخت ضابطہ اخلاق نافذ، اثاثے اور سوشل میڈیا سرگرمیاں ظاہر کرنا لازمی قرار – Daily Qudrat

62 سال پرانا نظام ختم، حکومت کا سرکاری ملازمین کیلئے نیا سخت ضابطہ اخلاق نافذ، اثاثے اور سوشل میڈیا سرگرمیاں ظاہر کرنا لازمی قرار – Daily Qudrat


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کی جگہ نیا ’سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026‘ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اثاثوں کی تفصیلات، مفادات کے ٹکراؤ، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور مالی شفافیت سے متعلق سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ ’وی نیوز ‘ کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرانا ہوں گی، جبکہ ان اثاثوں کی معلومات عوامی سطح پر بھی جاری کی جائیں گی، تاہم ذاتی حساس معلومات خفیہ رکھی جائیں گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان گوشواروں کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ پہلی بار سرکاری ملازمین کے لیے کرپٹو کرنسی، بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق جامع نظام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت افسران کو اپنے ذاتی یا خاندانی مفادات ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر اثرانداز ہونے سے بچا جا سکے۔
سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین پیشگی اجازت کے بغیر ویب سائٹس، پوڈکاسٹس، بلاگز یا یوٹیوب چینلز نہیں چلا سکیں گے، جبکہ ذاتی تشہیر کے لیے سرکاری سہولیات یا کام کی تشہیر بھی ممنوع ہوگی۔ حکومت نے تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین بھی سخت کر دیے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ غیر متعلقہ افراد، کمپنیوں یا غیر ملکی نمائندوں سے تحائف وصول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قوانین کے تحت جائز ہوں۔ مزید برآں، افسران کو اپنی آمدن سے بڑھ کر اخراجات کرنے سے بھی روکا گیا ہے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات پر غیر معمولی اخراجات کی وضاحت طلب کی جا سکے گی۔



Leave a Reply