Chitral Times – سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقصادی امور نے خیبر پختونخوا میں 26 ارب روپے کے نوشہرہ ۔ چترال ہائی وے منصوبے کے ٹینڈرز (بڈز) میں سنگین بے قاعدگیوں کے باعث منسوخ کرنے کا حکم دے دیا

Chitral Times – سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقصادی امور نے خیبر پختونخوا میں 26 ارب روپے کے نوشہرہ ۔ چترال ہائی وے منصوبے کے ٹینڈرز (بڈز) میں سنگین بے قاعدگیوں کے باعث منسوخ کرنے کا حکم دے دیا


سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقصادی امور نے خیبر پختونخوا میں 26 ارب روپے کے نوشہرہ ۔ چترال ہائی وے منصوبے کے ٹینڈرز (بڈز) میں سنگین بے قاعدگیوں کے باعث منسوخ کرنے کا حکم دے دیا

۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقصادی امور نے خیبر پختونخوا میں 26 ارب روپے کے نوشہرہ–چترال ہائی وے منصوبے کے ٹینڈرز (بڈز) میں سنگین بے قاعدگیوں کے باعث انہیں منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ہدایت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس کے دوران دی گئی جس کی صدارت سیف اللہ ابرو نے کی۔ٹینڈرنگ کا عمل کالعدم قرارکمیٹی نے N-45 منصوبے کے ٹینڈرنگ کے عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو 30 دنوں کے اندر نئے سرے سے عمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔ حکام کو حکم دیا گیا کہ وہ شفاف مالی اور تکنیکی جانچ پڑتال، ٹینڈرنگ طریقہ کار پر عملدرامدکو یقینی بنائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹینڈرنگ کی اس پراسس میں صرف ایک ہی کورین کمپنی میسرز سیمبو انجینئرنگ نے حصہ لیا تھا جس کی جانب سے جمع کرائی گئی واحد بڈ انجینئر کے لگائے گئے تخمینے سے 224 فیصد زیادہ پائی گئی اور یہی اس ٹینڈر کی منسوخی کی بنیادی وجہ بن گئی۔ ٹینڈرنگ پراسس کی شفافیت پر کمیٹی کے ارکان نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ جائزہ کمیٹی نے منصوبے میں غیر معمولی تاخیر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ 2021 میں شروع ہوا تھا لیکن ابھی تک اس پر کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔





Leave a Reply