
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی کے دوران وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا، جب ایک راہگیر بھی ہلاک ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور کو ہلاک کر دیا، جب کہ ایک راہگیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا، جو بعد ازاں جاں بر نہ ہو سکا۔
سیکرٹ سروس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں کہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت وائٹ ہاؤس میں موجود تھے، جہاں وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات پر کام کر رہے تھے، تاہم اس واقعے سے وہ متاثر نہیں ہوئے۔
فائرنگ کا واقعہ ہفتہ کی شام 6 بجے 17 اسٹریٹ اور پنسلوینیا ایونیو کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی حدود کے قریب موجود ایک شخص نے اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔حملہ آور نے پستول سے وائٹ ہاؤس کے دروازے پر فائرنگ کی، جس کے فوراً بعد صدر ٹرمپ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، اور سیکرٹ سروس اہلکاروں نے وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کر دیا، چھت اور اطراف میں اسنائپرز تعینات کر کے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی۔
چیف آف کمیونیکیشنز انتھونی گگلیلمی نے بتایا کہ ’’سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کی، جس سے مشتبہ شخص زخمی ہوا اور اسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔‘‘
امریکی سیکرٹ سروس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں اہلکاروں کو کوئی چوٹ نہیں آئی، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، گگلیلمی نے کہا یہ واقعہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی جاری کی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے دوران رپورٹرز لائیو نشریات چھوڑ کر محفوظ مقام پر چلے گئے، بعد ازاں وائٹ ہاؤس کا لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں
