طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے اس سال خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں کی روایتی رونق اور کاروباری توازن کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔
بڑے جانوروں کی تعداد بڑھنے اور افغانستان منتقلی رکنے کے باعث منڈیوں میں جانور تو زیادہ ہیں، لیکن خریدار کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب افغانستان سے آنے والے چھوٹے جانوروں کی سپلائی متاثر ہونے سے ان کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
پشاور شہر کی مختلف مویشی منڈیوں سمیت رنگ روڈ منڈی میں اس بار بڑے جانور تو وافر مقدار میں موجود ہیں، لیکن منڈیوں میں خریداروں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب چھوٹے جانوروں کی محدود دستیابی اور بڑھتی قیمتوں نے کئی شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔
بیوپاریوں کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ پاک افغان سرحد طورخم کی بندش ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا سے بڑے جانور افغانستان منتقل نہیں ہو پا رہے جبکہ افغانستان سے آنے والے چھوٹے جانوروں کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔
بڑے جانوروں کے بیوپاری مولانا توقیر مغل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طورخم بارڈر بند ہونے کے باوجود انہوں نے اس سال قیمتیں گذشتہ برس کے مطابق رکھی ہیں کیونکہ بیوپاری پہلے ہی چارے اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق اگر بارڈر مسلسل بند رہا تو عید کے آخری دنوں میں بڑے جانوروں کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے کیونکہ منڈی میں جانوروں کی تعداد زیادہ ہے۔
مولانا توقیر مغل نے بتایا کہ اس وقت تین من وزنی بڑے جانور کی قیمت تقریباً تین لاکھ 20 ہزار روپے سے شروع ہو رہی ہے۔
دوسری جانب منڈی میں آنے والے خریدار عابد احمد کے مطابق جانور زیادہ ہونے کے باوجود قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال انہوں نے تین لاکھ روپے میں قربانی کے لیے بیل خریدا تھا، لیکن اس سال ان کا بجٹ کم ہے جبکہ قیمتیں اب بھی زیادہ محسوس ہو رہی ہیں۔
عابد احمد کے مطابق بہت سے خریدار اب اجتماعی قربانی یا نسبتاً کم قیمت جانور خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سال 2024 میں خیبر پختونخوا کی مختلف منڈیوں میں تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ جانور موجود تھے، تاہم سال 2025 اور 2026 کے حوالے سے تازہ اعدادوشمار تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
محکمے کے مطابق سرحدی نقل و حرکت متاثر ہونے سے منڈیوں کے رجحانات اور سپلائی کے نظام پر اثر پڑا ہے۔
ادھر چھوٹے جانوروں کی منڈی میں ڈیرہ غازی خان سے آئے بیوپاری تنویر عباس نے بتایا کہ دمبے بڑی مقدار میں افغانستان سے آتے تھے، لیکن اس سال سپلائی متاثر ہونے سے صورتحال مختلف ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس عید پر ان کے پاس فروخت کے لیے صرف 50 دمبے موجود ہیں، جن کی قیمت ایک لاکھ 80 ہزار روپے سے دو لاکھ روپے سے زائد تک ہے۔
تنویر عباس کے مطابق انہوں نے دمبے مہنگے داموں خریدے تھے، تاہم بارڈر کی غیر یقینی صورتحال اور کم خریداروں کے باعث اس بار منافع کے بجائے نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
عیدالاضحیٰ سے قبل خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں میں اس سال بارڈر بندش، مہنگائی اور کمزور قوتِ خرید کے اثرات ایک ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، جہاں خریدار اور بیوپاری دونوں بدلتی صورتحال کے مطابق فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
